آئینۂ صفاتِ حق
ان سے وفا کی ابتدا صل علی محمدٍ
ان پہ وفا کی انتہا صل علی محمدٍ
صَلِّ عَلیٰ نَبِیِّنَا پڑھ دل و جاں سے وہ درود
گونجے افق افق صدا صل علی محمدٍ
عشق کے ماسِوا ہے کیا ؟ عشق سے بھی سَوا ہے کیا ؟
سب نہیں اس میں کیوں سَوا صل علی محمدٍ
ہم تھے عدم میں کالعدم ، ان پہ درود کے لئے
لائی وجود میں قضا صل علی محمدٍ
ان پہ درود القلم ، ان پہ درود الکتاب
ان پہ درود الھدیٰ صل علی محمدٍ
اپنے زبان و نطق میں آئی ہیں جو حلاوتیں
فیض ہے سب درود کا صل علی محمدٍ
وہ ہیں دلیلِ ذات حق ، آئینۂ صفاتِ حق
ان پہ درودِ کبریا صل علی محمدٍ
مکہ میں ہے خدا کا گھر ، پوچھو اگر خدا کا در ؟
طیبہ میں ہے کھلا ہوا صل علی محمدٍ
میں کہاں کیا مرے قدم ؟ منزل شوق کی طرف
خود ہے سفر میں راستہ صل علی محمدٍ
آصفِ نارسائے د ل کرتا پھرے دوائے دل
یاد اسے کیوں نہیں رہا صل علی محمدٍ
