مرزا آصف رسول ۔۔۔ آئینۂ صفات حق

آئینۂ صفاتِ حق
ان سے وفا کی ابتدا صل علی محمدٍ
ان پہ وفا کی انتہا صل علی محمدٍ

صَلِّ عَلیٰ نَبِیِّنَا پڑھ دل و جاں سے وہ درود
گونجے افق افق صدا صل علی محمدٍ

عشق کے ماسِوا ہے کیا ؟ عشق سے بھی سَوا ہے کیا ؟
سب نہیں اس میں کیوں سَوا صل علی محمدٍ

ہم تھے عدم میں کالعدم ، ان پہ درود کے لئے
لائی وجود میں قضا صل علی محمدٍ

ان پہ درود القلم ، ان پہ درود الکتاب
ان پہ درود الھدیٰ صل علی محمدٍ

اپنے زبان و نطق میں آئی ہیں جو حلاوتیں
فیض ہے سب درود کا صل علی محمدٍ

وہ ہیں دلیلِ ذات حق ، آئینۂ صفاتِ حق
ان پہ درودِ کبریا صل علی محمدٍ

مکہ میں ہے خدا کا گھر ، پوچھو اگر خدا کا در ؟
طیبہ میں ہے کھلا ہوا صل علی محمدٍ

میں کہاں کیا مرے قدم ؟ منزل شوق کی طرف
خود ہے سفر میں راستہ صل علی محمدٍ

آصفِ نارسائے د ل کرتا پھرے دوائے دل
یاد اسے کیوں نہیں رہا صل علی محمدٍ

Related posts

Leave a Comment